ٹوکیو اولمپکس سرابرہ کو خواتین بارے تضحیک آمیز الفاظ مہنگے پڑھ گئے،معافی مانگ لی

0
234

دنیا بھر کے مرد عمومی طورپر خواتین کے بارے میں کسی نا کسی طرح ایسے الفاظ کا استعمال کردیتے ہیں جس سے خواتین کے احترام اور ان کی شخصیت پر حملہ تصور ہوتا ہے اور پھر سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور ادارے ان الفاظ کو باقاعدہ طور پر ان مردوں کے لئے شرمندگی کا باعث بنا دیتے ہیں اور بلاخر معافی تلافی اور استعفوں تک بات جا کر رہی رہتی ہے اور ایسا ہی کچھ ٹوکیو اولمپکس کے سرابراہ کے ساتھ ہوا اور معافی مانگی پڑی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ٹوکیو اولمپکس آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ نے خواتین سے متعلق نامناسب بیان دینے پر استعفے کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد معافی مانگ لی۔

برطانوی میڈیا کا بتانا ہےکہ 83 سالہ یوشیرو موری نے خواتین سے متعلق اپنے بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹوکیو اولمپکس کے سربراہ نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ خواتین بہت زیادہ باتیں کرتی ہیں اور اسی وجہ سے بورڈ آف ڈائریکٹر کی خواتین کے ساتھ میٹنگ میں بہت وقت لگتا ہے۔

جاپانی اولمپکس کمیٹی کے بورڈ میں کل 24 ممبران ہیں جن میں 5 خواتین بھی شامل ہیں۔

اولمپکس کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر ہم بورڈ ممبران میں خواتین کی تعداد بڑھاتے ہیں تو ہمیں ان کے بات کرنے کا وقت بھی یقینی طور پر بڑھاناہوگا کیونکہ انہیں ختم کرنے میں کافی مشکل ہوتی ہے جو کافی اذیت ناک ہے۔

موری کے بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی اور ان سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس معاملے پر انہوں نے کہا کہ ان کے اہلخانہ نے بھی ان کے حالیہ بیان پر ان کی سرزنش کی ہے جب کہ ان کی اہلیہ نے ایک بار پھر متنازع بیان دینے پر انہیں ڈانٹا بھی ہے، یہی نہیں بلکہ ان کی بیٹی اور پوتی نے بھی خواتین سے متعلق بیان پر سرزنش کی۔

یوشیرو موری کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر خواتین سے بیر رکھنے کی وجہ سے میں مشکل میں پڑ گیا ہوں۔

انہوں نے اپنے بیان پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں خواتین سے زیادہ بات نہیں کرتا اس لیے مجھے نہیں پتا کہ میں نے کس بنیاد پر ان سے متعلق یہ بات کہی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here