دنیا بھر کے مرد عمومی طورپر خواتین کے بارے میں کسی نا کسی طرح ایسے الفاظ کا استعمال کردیتے ہیں جس سے خواتین کے احترام اور ان کی شخصیت پر حملہ تصور ہوتا ہے اور پھر سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور ادارے ان الفاظ کو باقاعدہ طور پر ان مردوں کے لئے شرمندگی کا باعث بنا دیتے ہیں اور بلاخر معافی تلافی اور استعفوں تک بات جا کر رہی رہتی ہے اور ایسا ہی کچھ ٹوکیو اولمپکس کے سرابراہ کے ساتھ ہوا اور معافی مانگی پڑی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ٹوکیو اولمپکس آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ نے خواتین سے متعلق نامناسب بیان دینے پر استعفے کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد معافی مانگ لی۔

برطانوی میڈیا کا بتانا ہےکہ 83 سالہ یوشیرو موری نے خواتین سے متعلق اپنے بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹوکیو اولمپکس کے سربراہ نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ خواتین بہت زیادہ باتیں کرتی ہیں اور اسی وجہ سے بورڈ آف ڈائریکٹر کی خواتین کے ساتھ میٹنگ میں بہت وقت لگتا ہے۔

جاپانی اولمپکس کمیٹی کے بورڈ میں کل 24 ممبران ہیں جن میں 5 خواتین بھی شامل ہیں۔

اولمپکس کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر ہم بورڈ ممبران میں خواتین کی تعداد بڑھاتے ہیں تو ہمیں ان کے بات کرنے کا وقت بھی یقینی طور پر بڑھاناہوگا کیونکہ انہیں ختم کرنے میں کافی مشکل ہوتی ہے جو کافی اذیت ناک ہے۔

موری کے بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی اور ان سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس معاملے پر انہوں نے کہا کہ ان کے اہلخانہ نے بھی ان کے حالیہ بیان پر ان کی سرزنش کی ہے جب کہ ان کی اہلیہ نے ایک بار پھر متنازع بیان دینے پر انہیں ڈانٹا بھی ہے، یہی نہیں بلکہ ان کی بیٹی اور پوتی نے بھی خواتین سے متعلق بیان پر سرزنش کی۔

یوشیرو موری کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر خواتین سے بیر رکھنے کی وجہ سے میں مشکل میں پڑ گیا ہوں۔

انہوں نے اپنے بیان پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں خواتین سے زیادہ بات نہیں کرتا اس لیے مجھے نہیں پتا کہ میں نے کس بنیاد پر ان سے متعلق یہ بات کہی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here