نادیہ کوثر

پاکستان آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا ملک ہے اور یہاں پر بسنے والے لوگ مختلف قسم کا مزاج رکھتے ہیں ان میں مذہبی خیالات کے حامل لوگ بھی ہوتے ہیں اور سیکولر طبقہ بھی پایا جاتا ہے مگر ایک برائی ہر طبقہ میں پائی جاتی ہے و ہ عورتوں پر تشدد ہے بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔ لوگوں کی ننانوے فیصد آبادی مسلمان ہے مگر آئے روز ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جس میں کسی عورت کو زندہ جلائے جانے غیرت کے نام پر کاروکاری کے نام پر مار دینے کے واقعات سنگین ترین ہوتے ہیں ۔اس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہورہی ہے جبکہ نام نہا د این جی اوز بھی معاملات کو مزید بگاڑتی ہیں بحیثیت مسلمان یہ ہم سب کہ لیے شرم کا مقام ہے کہ ہم اس نبی ﷺ کے امتی ہیں جس نے عورت کو سب سے زیادہ حقوق دئیے ۔بیٹیوں کو رحمت قرار دیا اور ان کو جائیداد میں حصہ دار بنایا ۔عرب کا وہ معاشرہ جہاں عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا تھا اس معاشرے کی گری ہوئی عورت کو معاشرے میں اس کا جائز حق دیا۔ماں کے خوبصورت روپ کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے جنت کو اس کے قدموں تلے رکھ دیا۔مگر صد افسوس کہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں جہاں مرد کی حاکمیت زیادہ ہے۔مرد اپنے حق کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے، حالانکہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کی تعداد باون فیصد ہے۔مگر پھربھی صنف نازک کو کبھی ہراساں کیا جاتا ہے۔ کبھی زور زبردستی کی جاتی ہے۔اس لیے حکومت نے اس کو سنجیدگی سے لیا اور 11 جنوری 2010ء کو خواتین کے تحفظ کے لیے ایک ایکٹ منظور کروایاجو کہ ایک اچھا اقدام تھا مگر اس پر ٹھیک سے عمل نہیں ہوسکا۔

عورت کے حقوق پر بل 1

بعدازاں پنجاب حکومت نے اس کا بیڑہ اٹھایا اور خادم اعلیٰ شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے دن رات اس پر کام کیا اور تحفظ خواتین بل منظور کروایا جس کی رو سے پنجاب کے ہر ضلع میں تحفظ ملے گا۔ اس بل کو پہلے مرحلے میں ملتان میں نافذ العمل کیا جائے گا۔اس قانون کے تحت خواتین کو ہراساں کرنے یا جسمانی تشدد کرنے والوں کے خلاف عدالت سے پروٹیکشن آرڈرلے سکیں گی۔پروٹیکشن آرڈر کے ذریعے عدالت ان افراد کوجو ہراساں کرنے یاتشدد کرنے میں ملوث ہوں گے ان کو حکم ہو گا وہ متاثرہ خاتون سے ایک مخصوص فاصلے پر رہیں گے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اس شخص کے ہاتھ میں ایک کڑا پہنا دیا جائے گا تاہم یہ پابندی سنگین خطرے کی صورت میں ہو گی۔جبکہ بریسلٹ کے ساتھ ٹیمپرنگ کرنے کی صورت میں 6 ماہ کی قید بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی خاتون کو زبردستی گھر سے بھی نہیں نکالا جا سکے گا۔

خواتین اس بل کے تحت یہ حق رکھتی ہیں کہ وہ اپنی کمائی کو استعمال کر یں یا محفوظ رکھیں اس کے علاوہ اس بل میں ایسی بہت سی شقیں رکھی گئی ہیں جو کہ عورتوں پر تشدد اور جنسی ہراساں کرنے والوں کے خلاف مددگار ثابت ہوں گی اور خواتین اس معاشرے میں تحفظ محسوس کریں گی۔اس کے علاوہ حکومت پنجاب کم عمری کی شادی کے حوالے سے بھی کہ چکی ہے کہ 16 سال سے کم عمر کی لڑ کی کی شادی قانونی تصور نہیں کی جائے گی۔جبکہ خواتین کے جائیداد میں حصہ کے حوالے سے بھی قانون سازی کی جارہی ہے۔جو کہ ایک بہترین قدم ہے۔اس سے خواتین کو اپنا مستقبل محفوظ بنانے میں آسانی ہوگی خاص طور پروہ خواتین جن کو طلاق ہو جاتی ہے یا بیوہ ہو جاتی ہیں وہ جائیداد میں سے حصہ وصول کر کے آسانی محسوس کریں گی۔لیکن اگر ہم اپنی خوا تین کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ معاشرے میں وہ وقار کے ساتھ اور سر اٹھا کرجی سکیں تو ہمیں ان کی تعلیم پر بھر پور توجہ دینی پڑے گی اور یہ تب ہی ممکن ہو گا جب ہم اس معاشرے میں عورت کو اس کے جائز حق کے ساتھ برداشت کریں گے اور خوددارقومیں ہمیشہ ایسا ہی کرتی ہیں ۔ جب ہم ایسا کریں گے تو خواتین بھی زندگی کی حقیقی خوشیوں سے مستفیدہو سکیں گی اور ہمارے معاشرے کو ایک بہترین نسل دیں سکیں گی اور جب نسل اچھی ہوگی تو پاکستان کا مستقبل بھی محفوظ ہاتھوں میں ہوگا۔اس کے لیے ہمیں اسلام کے بنیادی اصول ذہن مین رکھنے ہوں گے کہ اسلام خواتین کو روحانی ،معاشی، معاشرتی، تعلیمی، سیاسی اور قانونی حق دیتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here