اوکاڑہ یونیورسٹی نے پبلک ہیلتھ اور میڈیکل ایجوکیشن کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں بطور مہمان خصوصی شرکت  کرنے والے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کرونا  وائرس کی روک تھام اور اس کی ویکسین کے متعلق اپنے ادارے کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پہ تفصیلی گفتگو کی اور کرونا ویکسین کی تحقیق کے مختلف پہلووں پہ اوکاڑہ یونیورسٹی کے ساتھ اشتراک کرنے کا اعلان کیا۔ 

اوکاڑہ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا کرونا ویکسین کی تحقیق پر اشتراک 1

ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر اکرم نے بتایا کہ ابھی تک دنیا کی محض 32 فیصد آبادی کو کرونا ویکسین لگائی جا سکی ہے اور پاکستان میں یہ شرح صرف تین فیصد ہے۔ جب تک دنیا کی 65 فیصد آبادی ویکسین شدہ نہیں ہو جاتی، اس وبا پہ قابو پانا نا ممکن ہے۔ انہوں نے اوکاڑہ یونیورسٹی میں شعبہ پبلک ہیلتھ کا افتتاح بھی کیا۔

اس موقع پہ اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد زکریا ذاکر نے سیمینار سے خطاب کے دوران پاکستان میں میڈیکل ایجوکیشن کے فروغ کےلیے پروفیسر جاوید اکرم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میڈیکل  کی تعلیم کو جامعات اور ہسپتالوں سے نکال کر کمیونٹی تک پہنچایا ہے اور اس کو نئی ایک نئی جہت دی ہے۔ پروفیسر زکریا نے ڈاکٹر اکرم سے اپیل کی کہ وہ اوکاڑہ یونیورسٹی میں پبلک ہیلتھ اور میڈیکل ایجوکیشن کی ترویج کےلیے معاونت فراہم کریں۔ 

اوکاڑہ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا کرونا ویکسین کی تحقیق پر اشتراک 2

پاکستان کی معروف ماہر پبلک ہیلتھ اور پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر روبینہ ذاکر نے بھی پاکستانی معاشرے میں کرونا ویکسین کے متعلق پائے جانے والی ہچکچاہٹ اور اس کی قبولیت پہ اپنی ایک حالیہ تحقیق کے نتائج پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ویکسین کی قبولیت میں کمی کی وجوہات میں لوگوں کا صحت کے متعلق غیر ذمہ دار رویہ،  ویکسین پہ عدم اعتماد اور مختلف ابہام ہیں۔ انہوں نے اپنی شفارشات میں کہا کہ اس مسئلے کا حل  معاشرے میں مثبت معلومات اور تعلیم کی ترویج کےذریعے  ہی ممکن ہے۔ 

ساہیوال میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر راشد قمر راو نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ کرونا کی وبا نے ہمیں بہت سے مثبت سبق بھی سکھائے ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہم اپنی صحت  کا خیال رکھنے اور حفظان صحت کے اصولوں پہ عمل پیرا ہونے کے حوالے سے زیادہ محتاط ہوگئے ہیں۔

معروف سوشل ورکر مظہر ساہی نے بتایا کہ ہمارے ملک کو اس وقت تین بڑے چیلنجز درپیش ہیں جن میں معیشت، ماحولیاتی تبدیلیاں اور کرونا وائرس شامل ہیں اور ہماری حکومت ان تینوں مسائل سے نمٹنے کےلیے احسن اقدامات کر رہی ہے۔ سیمینار کے اختتام پہ مہمانوں میں اعزازی شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔ اس سمینار کے فوکل پرسن اوکاڑہ یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار جمیل عاصم تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here